Kal chaudhvi ki raat thi by Ibne Insha (Ibne Insha)

۔ غزل کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا، کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا تیرا۔ ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے، ہم ہنس دئیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ تیرا۔ اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں، ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا تیرا۔ کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر، جنگل ترے پربت ترے بستی تری صحرا تیرا۔ ہم اور رسم بندگی آشفتگی افتادگی، احسان ہے کیا کیا ترا اے حسن بے پروا تیرا۔ بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے، تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا۔ دو اشک جانے کس لیے پلکوں پہ آ کر ٹک گئے، الطاف کی بارش تری اکرام کا دریا تیرا۔ اے بے دریغ و بے اماں ہم نے کبھی کی ہے فغاں، ہم کو تری وحشت سہی ہم کو سہی سودا تیرا۔ تو باوفا، تو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں، ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا۔ ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہ گزر، رستہ کبھی روکا ترا دامن کبھی تھاما تیرا۔ ہاں ہاں تری صورت حسیں لیکن تو ...